ابنا: امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ واشنگٹن پوسٹ اور ’بوسٹن گلوب‘ کے مطابق فوکو شیما میں ایٹمی حادثے کے تقریباً آٹھ ماہ بعد جاپان ،بھارت اور ویت نام کوایٹمی ٹیکنالوجی برآمد کرنے جارہا ہے ،اس حقیقت کے باوجود کہ سونامی سے متاثرہ فوکوشیما جوہری پلانٹ کے بحران میں مسلسل جکڑے رہنے کی وجہ سے جاپان خود جوہری توانائی کے سلسلے میں تذبذب کا شکار ہے۔جاپان کے وزیر خارجہ کوئچیرو جیمبا نے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا کے ساتھ ملاقات میں سویلین جوہری پاور معاہدے پرمذاکرات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔دریں اثناء جاپانی اور ویت نامی وزراء اعظم کے مابین آج ہونے والی ملاقات میں جوہری پاور پرتعاون پر بات چیت کا بھی امکان ہے۔ جاپان پچھلے سال اکتوبر میں ویتنام کو دو ایٹمی بجلی گھر مہیا کرنے کا معاہدہ کیا تھا لیکن اس معاہدے کی توثیق کے لئے پارلیمانی منظوری کی ضرورت ہے جو ابھی تک زیر التوا ہے۔جاپان کی حکمران ڈیموکریٹک پارٹی نے اقتصادی ترقی کے فروغ کیلئے جوہری ٹیکنالوجی کی برآمد کی حکمت عملی اپنائی تھی لیکن گیار ہ مارچ کے زلزلے اور فوکو شیما حادثے کے نتیجے میں بھارت کے ساتھ جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی اور پرامن استعمال کے لئے متعلقہ مواد کی منتقلی کے معاہدے پر مذاکرات معطلی کا شکار ہو گئے تھے ۔اخبار کے مطابق بھارت کے ساتھ جاپان کو جوہری توانائی کا معاہدہ تنقید کی زد میں آسکتا ہے کیونکہ یہ ایک ایسے وقت میں ہونے جارہا ہے جب فوکو شیما بحران حل نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ بھارت جوہری عدم پھیلاوٴ کے معاہدے (NPT) کا رکن نہیں ہے ۔جاپان میں نیوکلیئر پاور کی سیفٹی خدشات پر کئی ری ایکٹرز کو آف لائن رکھا گیا ہے، بجلی کی ضروریات کوتھرمل اور بچت کے ذریعے پورا کیا جارہا ہے۔ بھارتی اخبار’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق جاپان نے بھارت کے ساتھ سول جوہری معاہدے کے لئے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور نادر زمینی دھاتوں کے ذخائر کی تلاش کے لئے مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا۔وزیر خارجہ ایس ایم کرشنانے کہا کہ بھارت امریکا کے درمیان سہ رکنی باہمی مذاکرات جلد ہوں گے۔بھارتی اخبار’دی ہندو‘ کے مطابق جوہری تباہی کے باوجود جاپان نے پانچویں دو طرفہ اسٹرے ٹیجک ڈائیلاگ کے دوران بھارت کو سول جوہری تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔ان مذاکرات میں دفاع اور تجارت سمیت کئی اہم ایشوز پر بات کی گئی۔ جاپان نے سات بھارتیentities پر پابندی کو ختم کردیا ہے،اس فہرست میں نایاب زمینی دھاتیں بھی تھی۔ ...........
/169